میسورو،6/فروری (ایس او نیوز) سابق ریاستی وزیربرائے تعلیم تنویر سیٹھ نے وزیر اعلیٰ بسوراج بومئی کے نام ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے اڈپی کے سرکاری کالج میں مسلم لڑکیوں کو کالج میں حجاب پہن کر داخل ہونے پر پابندی عائد کرنے کے معاملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ خود کالج کی پرنسپل کی طرف سے گیٹ میں کھڑے ہوکر مسلم لڑکیوں کو روکنا کافی سنجیدہ معاملہ ہے۔
مذہب اسلام میں حجاب پہننا، سکھ مذہب میں پگڑی باندھنا اور عیسائی مذہب میں سنیاسن لڑکیوں کے حجاب پہننے کی روایت عام ہے۔یہ روایات گزشتہ کئی صدیوں سے چلی آرہی ہیں۔ لیکن اب تک اس پر کسی نے بھی روک نہیں لگائی۔ لیکن گزشتہ چند دنوں سے چند فرقہ پرست طاقتیں سوشیل میڈیا کے ذریعہ امن کی فضا کو بگاڑنے کی کوشش کررہے ہیں اور عوام کو گمراہ کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جب وہ وزیر تعلیم تھے اس وقت اسکولوں کی طالبات کو اسکرٹ اور شرٹ کے بدلے چوڑی دار کو لازمی طور پر پہن کر اسکولوں کو آنا لازمی قرار دیا تھا۔ تاکہ اسکول میں زیر تعلیم طالبات کو ہونے والی پریشانیوں سے بچایا جاسکے۔ہمارے اس ملک میں مختلف مذاہب کے ماننے والے موجود ہیں۔اپنے اپنے مذہب کو ماننے والے اپنی پسند کی پوشاک پہنتے ہیں۔
مرکزی اور ریاستی حکومتیں اسکولوں میں زیر تعلیم طالبات کی مکمل حفاظت اور بہترین تعلیم کی سہولت کے ساتھ نئے نئے قوانین جاری کئے ہیں اور لڑکیوں کو بہترین تعلیم فراہم کرنے کی ذمہ داری حکومت پر ہے۔ حالانکہ ہمارا ملک سکیولر ہے۔اس کے باوجود اڈپی کے سرکاری کالج کی پرنسپل نے خود طالبات میں ایک دوسرے کے خلاف نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ تمام کو اس کارروائی کی مذمت کی جانی چاہئے۔ حالات کے بے قابو ہونے سے پہلے جلد از جلدمعاملے کو حل کرنے کی گزارش کی ہے اور اڈپی کے سرکای کالج کی پرنسپل کو ضروری ہدایت دینے کی اپیل کی ہے۔